A bud that could not open
The weather is fine. There is a slight cool breeze. Ali is preparing to go to university and he is looking very happy today. He took his mountain bicycle and went out to greet.
On the way, two of his friends joined him at the Faisal Town junction.
Ali, what is the matter, you have arrived on time today. Oh man, which one are we going with?
Ali, what do you mean? Dude, we're going on a special mission. We'll tell you when we get back. Ok bye Ali also replied, "Allah knows best." He smiled and said, "I know what your special mission is." Now the university was close.
Ali mounted his mountain bicycle stand and headed for his class. All the classmates gave a wonderful welcome to Ali. At the same time the teacher also entered the class and all the students stood up. After taking the class, Ali made his way back. When Ali left the university, the weather was still very nice. The wind was blowing hard and cold. The breeze of colorful flowers was dancing here and there with the wind. Suddenly Ali's eyes fell on the most beautiful Haseen Shehkar made by Allah.
It was not only difficult but impossible to appreciate her good looks. She is so delicate that even delicacy is ashamed. It may be a poet's Ghazal or Stanza, no, it is not a maiden of paradise or a figure of beauty whom even the moon is ashamed to see.
Let me tell you about her delicacy, when a strong gust of wind touches her cheeks, a dimple falls on her cheeks, which makes her beauty even brighter. Her du patta (shawl) was blown away by the wind in such a way that she grabbed her du patta (shawl) while making the round, which hurt Ali's heart.
In this world of uncertainty, Ali applied both the brakes of his bicycle and made a line of poetry.
Your beauty has reached the heart
You are mine and Ali is yours
To be continued.........coming soon
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
ایک کلی جو کھل نہ سکی
موسم خشگوار ہے ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے علی یونیورسٹی جانے کی تیاری کر رہا ہے اور وہ آج بہت خوش نظر آرہا ہے۔ اس نے اپنی ماؤنٹین بائسکل لی اور سلام کرتے ہوۓ باہر نکل گیا۔ راستے میں اس کے دو دوستوں نے فیصل ٹاؤن موڑ پر
جوائن کر لیا۔
علی کیا بات ہے آج تم بالکل ٹائم پر آگۓ ہو۔ اوہ یار تو ہم کونسا تیرے ساتھ جارہے ہیں۔ علی کیا مطلب ہے تمہارا؟ اوہ یار ہم سپیشل مشن پر جارہے ہیں تجھے واپسی پر سب بتاتے ہیں۔ اوکے اللہ حافظ۔ علی بھی جواب دیتے ہوۓ اللہ حافظ اور دل ہی دل میں مسکراتے ہوۓ کہتا ہے مجھے پتا ہے کہ تمہارا خاص مشن کیاہے۔ اب یونیورسٹی بھی قرہب آچکی تھی۔ علی نے اپنی ماؤنٹین بائسکل سٹینڈ پر لگائی اور اپنی کلاس کی طرف بڑھا۔
سارے کلاس فیلوز نے علی کو شاندار استقبالیہ دیا۔ اسی دوران ٹیچر بھی کلاس میں داخل ہوا اور سب کے سب طالبہ و طالبات کھڑے ہو گئے۔ کلاس لینے کے بعد علی نے واپسی کا راستہ لیا۔ علی جب یونیورسٹی سے باہر نکلا تو موسم ابھی بھی بہت پیارا ہو رہا تھا۔ تیز اور ٹھنڈی ہوا چل تھی۔ ہوا کے ساتھ رنگ برنگے پھولوں کی خشبو بھی ادھر ادھر رقص کر رہی تھی۔
اچانک علی کی نظر اللہ کی بنائی ہوئی ایک خوب صورت ترین حسین شاہکار پر پڑی۔ اس کی خوب صورتی کی تعریف کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن تھا۔ وہ اتنی نازک کہ نزاکت بھی شرما جاۓ۔ وہ تو شاید کسی شاعر کی ۼزل یا خیام کی ربائی, نہیں نہیں یہ تو کوئی جنت کی حور یا کوئی حسن و جمال کا پیکر جسے چاند بھی دیکھ کر شرما جاۓ در حقیقت یہ وہ شاہکار ہی نہیں جسے الفاظوں میں بیان کا جا سکے۔
اسکی نازوکی کیا حد بیان کروں کہ ہوا کا تیز جھونکا جب اس کے رخساروں کو چھو کر گزرتا ہے تو اسکے گالوں پر ڈمپل پڑ جاتا ہے جو اس کے حسن کو اور بھی نکھار دیتا ہے۔ اسکا آنچل ہوا نے کچھ اسطرح سے اڑایا کہ اس نے بل کھاتے ہوۓ اپنے آنچل کو سنبھالا کہ علی کے دل کو گھائیل کر دیا۔
اسی بے قراری کے عالم میں علی نے بےساختہ اپنی بائسکل کی دونوں بریکیں لگا دیں اور نے ساختہ ایک شعر کہہ دیا۔
تیرے حسن و جمال کا دل پہ اٽر ہو گیا ہے
تو میری پو گئی ہے اور علی تیرا ہو گیا ہے
No comments:
Post a Comment